پیغمبر اسلامؐ انسانِ کامل اور اللہ کے انبیائے الٰہی کے خاتم ہیں، جو سابقہ انبیاء کے تمام مشترکہ فضائل و کمالات کے حامل ہیں۔ قرآنِ کریم نے بعض ایسی خصوصیات بھی آپؐ کے لیے بیان کی ہیں جو خاص طور پر آپؐ سے مخصوص ہیں، دوسرے انبیاء ان سے محروم تھے اور قیامت تک کوئی شخص ان صفات سے متصف نہیں ہوگا۔

وہ اوصاف اور احکام جو رسولِ اکرمؐ کے ساتھ مخصوص ہیں، دو قسموں میں تقسیم ہوتے ہیں:

ایک قسم ان اوصاف و احکام کی ہے جن کے مخصوص ہونے پر مفسرین کے درمیان اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے؛ جیسے: رسول اللہؐ کے ازدواج (مہر کے ساتھ اور بغیر مہر کے)، نمازِ شب کا وجوب، تورات و انجیل میں آپؐ کے نام کا مکتوب ہونا، اوّل المسلمین ہونا، عطائے کوثر، خاتمیت، عالمگیر شخصیت اور عطائے مفصّل۔

دوسری قسم ان اوصاف و احکام کی ہے جن کے رسولِ گرامی اسلامؐ سے مخصوص ہونے کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے؛ جیسے: علوِّ مرتبہ، عبدِ مطلق ہونا، اُسوہ و نمونہ ہونا، خطاب میں تعظیم و تکریم، اور مؤمنین پر آپؐ کی بعثت کا احسان و منّت ہونا۔

یہ امور رسولِ اکرمؐ کی تمام خصوصیات پر مشتمل نہیں ہیں، بلکہ اس کے علاوہ بھی دیگر اختصاصی صفات و احکام موجود ہیں جن کے بارے میں قرآنِ کریم گواہی دیتا ہے کہ دوسرے انبیائے الٰہی ان اوصاف و احکام کے حامل نہیں تھے۔


انبیائے الٰہی میں بعض صفات مشترک پائی جاتی ہیں۔ ان صفات میں توحید کی دعوت، تقویٰ کی تلقین، اختلافات کا ازالہ، شرک، جہالت اور تقلید کے خلاف جدوجہد، انذار و تبشیر، عصمت، بیّنات کا پیش کرنا، کتاب و میزان کا عطا ہونا، معجزہ، محروم طبقات کا احترام اور وحی کی تبیین شامل ہیں۔ یہ امور ان کی عملی صفات میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح معنوی صفات اور روحانی کمالات میں بھی ان کے درمیان مشترک پہلو موجود ہیں، جیسے مخلص ہونا، صابر ہونا، خشیتِ الٰہی میں موحّد ہونا، سچا ہونا اور امانت دار ہونا۔

اس مقالے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا قرآنِ کریم میں رسولِ گرامی اسلام ﷺ کے بارے میں ایسی صفات بیان ہوئی ہیں جو صرف آپؐ کے ساتھ مخصوص ہوں اور جن کی بنا پر آپؐ تمام انبیائے الٰہی میں سب سے برتر اور افضل قرار پاتے ہوں؟

یہ بات مسلّم ہے کہ تمام انبیائے الٰہی مقام و منزلت کے اعتبار سے ایک ہی درجے پر فائز نہیں تھے، بلکہ بارگاہِ الٰہی میں ان کے مختلف مراتب تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَى بَعْضٍ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا﴾
’’اور یقیناً ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی اور داؤد کو زبور عطا کی۔‘‘ (الإسراء: 55)

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:

﴿تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ﴾
’’یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔‘‘ (البقرہ: 253)

روایات میں بھی اس حقیقت پر زور دیا گیا ہے۔ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

سَادَةُ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ خَمْسَةٌ وَهُمْ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَعَلَيْهِمْ دَارَتِ الرَّحَى: نُوحٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَمُوسَى وَعِيسَى وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَعَلَى جَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ

’’پیغمبروں اور رسولوں کے سردار پانچ ہیں، اور وہ اولوالعزم رسول ہیں۔ نبوت و رسالت کی چکی انہی کے محور پر گردش کرتی ہے۔ وہ نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد ہیں، اللہ کا درود ان پر اور تمام انبیاء پر ہو۔‘‘ (کلینی، 1407ھ، ج 1، ص 175)

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَ أَنْبِيَاءَهُ الْمُرْسَلِينَ عَلَى مَلَائِكَتِهِ الْمُقَرَّبِينَ وَفَضَّلَنِي عَلَى جَمِيعِ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ

’’اللہ تعالیٰ نے اپنے مرسل انبیاء کو اپنے مقرّب فرشتوں پر فضیلت دی، اور مجھے تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت عطا فرمائی۔‘‘ (فیض کاشانی، 1387ش، ج 4، ص 201)

لہٰذا انبیائے الٰہی کے درمیان مراتب اور درجات کا تفاوت پایا جاتا ہے، اور رسولِ اسلام ﷺ، جو اللہ کے آخری اور سب سے برتر نبی ہیں، ایسی خاص صفات، احکام اور امتیازات کے حامل ہیں جن کی وجہ سے آپؐ کو دیگر تمام انبیاء پر فضیلت حاصل ہے۔

انبیاء کی صفات کے بارے میں بحث کی تاریخ اسلام سے پہلے کے ادوار تک پہنچتی ہے، کیونکہ سابقہ انبیاء نے آنے والے انبیاء کی بعض صفات اپنی امتوں کے سامنے بیان کی تھیں۔ چنانچہ حضرت عیسیٰؑ نے بھی اپنی کتاب میں رسولِ اسلام ﷺ کی بعض خصوصیات کا تذکرہ کیا تھا۔

اس مقالے میں توصیفی و تحلیلی روش کے تحت قرآنِ کریم کی آیات کی روشنی میں ان صفات اور احکام میں سے بعض کا تعارف پیش کیا جائے گا جو خاص طور پر رسولِ اکرم ﷺ سے مخصوص ہیں۔

۱۔ رسولِ اکرمؐ کے اوصاف

۱۔۱) تورات اور انجیل میں رسولِ اکرمؐ کے نام و اوصاف کا مکتوب ہونا

ان خصوصیات میں سے ایک، جسے اکثر مفسرین صرف رسولِ اکرم ﷺ کے ساتھ مخصوص قرار دیتے ہیں، آپؐ کا نام اور اوصاف کا عہدین (تورات اور انجیل) میں مذکور ہونا ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ کی صفات، علامات، نشانیاں اور نبوت و حقانیت کے دلائل مختلف تعبیرات کے ساتھ سابقہ آسمانی کتابوں (تورات اور انجیل) میں موجود ہیں، اس طرح کہ وہ انسان کو آپؐ کی حقانیت پر مطمئن کر دیتے ہیں۔ قرآنِ کریم اس سلسلے میں فرماتا ہے:

﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ﴾

’’وہ لوگ جو اس رسول، نبیِ اُمّی کی پیروی کرتے ہیں، جسے وہ اپنے پاس موجود تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں…‘‘ (الأعراف: 157)

اسی طرح ایک اور آیت میں بیان ہوا ہے کہ اہلِ کتاب کے علماء رسولِ اسلام ﷺ کو اسی طرح پہچانتے تھے جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی مذہبی کتابوں میں آپؐ کا نام، نشان اور اوصاف پڑھ رکھے تھے:

﴿الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ﴾

’’جن لوگوں کو ہم نے آسمانی کتاب عطا کی ہے، وہ اس (پیغمبر) کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔‘‘ (البقرہ: 146)

یہ آیت ایک نہایت اہم حقیقت کو آشکار کرتی ہے، اور وہ یہ کہ سابقہ آسمانی کتابوں میں رسولِ اسلام ﷺ کی جسمانی اور روحانی صفات اور خصوصیات اس قدر واضح اور زندہ انداز میں بیان کی گئی تھیں کہ ان کتابوں سے واقف افراد کے اذہان میں آپؐ کی ایک مکمل تصویر موجود تھی۔ (مکارم شیرازی، 1374ش، ج 1، ص 500)

اس بات سے کہ قرآنِ کریم نے رسولِ خدا ﷺ کا نام صراحت کے ساتھ ذکر نہیں کیا، بلکہ آپؐ کو تین اوصاف «رسول»، «نبی» اور «اُمّی» کے ساتھ یاد کیا ہے، اور اس کے بعد فرمایا:

﴿الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ﴾

اس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ تورات اور انجیل میں بھی آپؐ کا تعارف انہی تین صفات کے ساتھ کرایا گیا تھا۔ (ر.ک: طباطبائی، 1403ھ، ج 8، ص 365)

کیونکہ اس آیت کے علاوہ، جو تورات و انجیل کی طرف سے رسولِ اکرم ﷺ کی نبوت کی گواہی کے بارے میں ہے، قرآنِ کریم کے کسی دوسرے مقام پر رسولِ خدا ﷺ کو ان تینوں اوصاف کے مجموعے کے ساتھ ایک جگہ بیان نہیں کیا گیا۔

۱۔۲) اوّل المسلمین

«اوّل المسلمین» رسولِ اکرم ﷺ کی ایک اور خصوصیت ہے جس کے آپؐ سے مخصوص ہونے پر اکثر مفسرین کا اتفاق ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسولؐ کو حکم دیتا ہے کہ وہ اعلان کریں:

﴿لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾

’’اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔‘‘ (الأنعام: 163)

یہاں «اوّل المسلمین» سے مراد زمانی اعتبار سے پہلا مسلمان ہونا نہیں، بلکہ ذاتی اور رتبہ و مقام کے اعتبار سے اوّلیت ہے، جسے بعض اوقات اولویتِ رتبہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے کسی اور نبی کے بارے میں «اوّل المسلمین» کی تعبیر استعمال نہیں کی۔ حضرت ابراہیمؑ، باوجود اس کے کہ زمانی لحاظ سے مقدم تھے اور سلسلۂ انبیائے ابراہیمی کے سرسلسلہ تھے، انہوں نے دعا کی:

﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾

’’اے ہمارے پروردگار! ان میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاکیزہ بنائے، بے شک تو ہی غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘ (البقرہ: 129)

رسولِ خدا ﷺ نے بھی بعض روایات کے مطابق فرمایا:

«أَنَا ابْنُ الذَّبِيحَيْنِ»

’’میں دو ذبیحوں کا فرزند ہوں۔‘‘

اور آپؐ خود کو حضرت اسماعیلؑ بن ابراہیمؑ کی نسل سے قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو یہ نہیں فرمایا کہ وہ کہیں: ’’میں اوّل المسلمین ہوں۔‘‘

اسی طرح حضرت نوحؑ، جو شیخ الانبیاء کہلاتے ہیں، اور حضرت آدمؑ، جو ابو البشر ہیں، ان میں سے کسی نے بھی یہ تعبیر استعمال نہیں کی۔ قرآنِ کریم میں صرف رسولِ خدا ﷺ ہی وہ ہستی ہیں جنہیں «اوّل المسلمین» کہا گیا ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اوّلیت زمانی اور تاریخی نہیں ہے؛ کیونکہ اگر مراد زمانی اوّلیت ہوتی تو ہر نبی اپنی قوم کے اعتبار سے ’’اوّل المسلمین‘‘ ہوتا، بلکہ سابقہ انبیاء اس وصف کے زیادہ مستحق ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف رسولِ اسلام ﷺ کو حکم دیا کہ وہ اعلان کریں کہ انہیں ’’اوّل المسلمین‘‘ ہونے کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ آپؐ اوّلین صادر یا اوّلین ظاہر ہیں؛ یعنی مرتبۂ وجود میں آپؐ سے پہلے کوئی نہیں۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی آپؐ سب سے پہلے محشور ہوں گے۔ (ر.ک: جوادی آملی، 1385ش، ج 8، ص 30)

فیض کاشانی کا عقیدہ ہے:

«إِنَّهُ أَوَّلُ مَن أَجَابَ فِي الْمِيثَاقِ»

’’رسولِ اکرم ﷺ وہ پہلی ہستی ہیں جنہوں نے عالمِ ذر میں عہد و میثاق کے وقت لبیک کہا۔ پس آپؐ کا اسلام تمام مخلوقات کے اسلام پر مقدم ہے۔‘‘ (فیض کاشانی، 1387ش، ج 2، ص 654)

علامہ طباطبائی کے نزدیک جملہ:

﴿وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾

اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہاں ’’اوّل‘‘ سے مراد درجہ اور مرتبہ کے اعتبار سے اوّلیت ہے، نہ کہ زمانے کے اعتبار سے؛ کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ سے پہلے بھی بہت سے مسلمان گزر چکے تھے۔ چنانچہ قرآن حضرت نوحؑ کے بارے میں نقل کرتا ہے:

﴿وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾
(یونس: 72)

اور حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں فرماتا ہے:

﴿إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾
(البقرہ: 131)

نیز حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے دعا کی:

﴿رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ﴾
(البقرہ: 128)

حضرت لوطؑ کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ﴾
(الذاریات: 36)

اور ملکۂ سبأ کے بارے میں فرمایا:

﴿وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ﴾
(النمل: 42)

بشرطیکہ اس سے مراد اللہ کے سامنے اسلام و تسلیم ہو۔ پھر اسی ملکہ نے کہا:

﴿وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾
(النمل: 44)

قرآنِ کریم میں کسی اور شخصیت کو «اوّل المسلمین» کے وصف سے یاد نہیں کیا گیا، بلکہ صرف رسولِ خدا ﷺ کو اس آیت میں اور نیز اس آیت میں:

﴿وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ﴾

’’اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔‘‘ (الزمر: 12)

اوّل المسلمین قرار دیا گیا ہے۔

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپؐ اپنی امت میں سب سے پہلے مسلمان ہیں، کیونکہ اگر تمام زمانوں کے اعتبار سے مراد لیا جائے تو حضرت ابراہیمؑ پہلے مسلمان ہوں گے اور دوسرے ان کے تابع۔ لیکن علامہ طباطبائی اس قول کو درست نہیں سمجھتے؛ کیونکہ سورۂ انعام کی آیت میں اسلام کو امتِ محمدیہ کے ساتھ مقید نہیں کیا گیا، لہٰذا اسے کسی خاص امت تک محدود کرنے کی کوئی دلیل موجود نہیں۔

اور جو یہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے مسلمان حضرت ابراہیمؑ تھے، ان کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ قرآنِ کریم نے حضرت ابراہیمؑ سے پہلے کے بعض انبیاء کو بھی مسلمان قرار دیا ہے۔ مزید برآں، درج ذیل آیات:

﴿رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ
(البقرہ: 128)

اور

﴿مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ﴾
(الحج: 78)

بھی مذکورہ دعوے پر دلالت نہیں کرتیں۔ (ر.ک: طباطبائی، 1403ھ، ج 7، ص 394-395)

سورۂ انعام کی آیت 163 سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو دیگر ادیان پر فضیلت حاصل ہے اور اس کی پیروی واجب ہے؛ کیونکہ رسولِ اسلام ﷺ وہ پہلی ہستی ہیں جنہیں اسلام کے سامنے کامل تسلیم و رضا کا حکم دیا گیا، اور دوسروں کے لیے آپؐ کی پیروی کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔ (ر.ک: طبرسی، 1360ش، ج 9، ص 36)

۱۔۳) عطائے کوثر

کوثر ان خصوصی عطیات میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے الٰہی میں سے صرف رسولِ اکرم ﷺ کو عطا فرمائے ہیں۔ اس اختصاص پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسولؐ کو پیش آنے والے دردناک حوادث اور دشمنوں کے مسلسل طعن و تشنیع کے مقابلے میں تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے:

﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾

’’بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا ہے۔‘‘ (الکوثر: 1)

لفظ کوثر ’’کثرت‘‘ سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں بہت زیادہ خیر اور فراوان برکت۔ اسی مناسبت سے سخی اور فیاض شخص کو بھی ’’کوثر‘‘ کہا جاتا ہے۔

مفسرین نے کوثر کے مفہوم کے بارے میں مختلف آراء پیش کی ہیں۔ بعض نے اسے جنت کی ایک نہر قرار دیا ہے، بعض نے اسے حوضِ کوثر سے تعبیر کیا ہے جو رسولِ اکرم ﷺ سے مخصوص ہے۔ بعض دیگر نے اس کی تفسیر نبوت، قرآن، اصحاب و انصار کی کثرت، اولاد و ذریت کی فراوانی اور شفاعت سے کی ہے۔

البتہ یہ تمام معانی درحقیقت اس وسیع مفہوم کے روشن مصادیق ہیں، کیونکہ کوثر کا حقیقی مفہوم ’’خیرِ کثیر‘‘ اور ’’فراوان نعمت‘‘ ہے۔ (مکارم شیرازی، 1374ش، ج 27، ص 372)

کوثر کے نمایاں ترین مصادیق میں سے ایک حضرت فاطمہ زہراؑ کا بابرکت وجود ہے؛ کیونکہ رسولِ اسلام ﷺ کی نسل اور ذریت اسی دخترِ گرامی کے ذریعے دنیا میں پھیلی۔ یہ وہ نسل ہے جو صرف جسمانی اعتبار سے رسولِ خدا ﷺ کی اولاد نہیں، بلکہ اس نے دینِ اسلام، اس کی تعلیمات اور اس کے تمام الٰہی و انسانی اقدار کی حفاظت کی اور انہیں آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔

۱۔۴) مہر کے ساتھ چار سے زیادہ عورتوں سے دائمی نکاح

ان احکام میں سے جو صرف رسولِ اکرم ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں، چار سے زیادہ عورتوں کے ساتھ دائمی نکاح کی اجازت ہے۔ رسولِ خدا ﷺ ان خواتین سے مہر ادا کرکے نکاح فرماتے تھے، جبکہ دیگر مسلمانوں کے لیے چار سے زیادہ بیویوں کا رکھنا حرام قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا﴾

’’اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں، دو دو، تین تین یا چار چار۔ پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ ان کے درمیان عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی پر اکتفا کرو یا ان پر جو تمہاری ملکیت میں ہوں۔ یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم ظلم و زیادتی میں مبتلا نہ ہو۔‘‘ (النساء: 3)

اس آیت کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ عدل و انصاف کی رعایت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ چار عورتوں سے دائمی نکاح جائز ہے، ورنہ شوہر معذور نہیں ہوگا۔ اسلام نے ان مردوں کو، جو بیویوں کے درمیان عدل قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، دو، تین یا چار عورتوں سے نکاح کی اجازت دی ہے۔ ایک بیوی کا ذکر ابتدا میں اس لیے نہیں کیا گیا کہ وہ بدیہی امر تھا، جبکہ آیت کے آخر میں عدمِ عدل کے خوف کی صورت میں ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنے کا حکم بیان کر دیا گیا ہے۔

دورِ جاہلیت میں مردوں کے لیے بیویوں کی تعداد کی کوئی حد مقرر نہ تھی۔ بعض افراد کئی کئی عورتوں سے نکاح رکھتے تھے اور بعض اوقات ان کی تعداد دس تک پہنچ جاتی تھی۔ لیکن اسلام کے آنے کے بعد، جس نے چار سے زیادہ دائمی بیویوں کی اجازت نہیں دی، رسولِ خدا ﷺ نے ان مسلمانوں کو جن کے پاس چار سے زائد بیویاں تھیں، حکم دیا کہ وہ اپنی بیویوں میں سے چار کو منتخب کریں اور باقی کو طلاق دے کر جدا کر دیں۔

آیت میں مذکور «مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ» سے مراد عدد نو (9) نہیں ہے، جیسا کہ دو، تین اور چار کو جمع کرنے سے بنتا ہے؛ کیونکہ:

اوّلاً، قرآن کا اسلوب ’’دو دو، تین تین اور چار چار‘‘ ہے۔

ثانیاً، عربی زبان میں عدد نو کے لیے مستقل لفظ «تِسْع» موجود ہے، تو پھر قرآن، جو فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ ترین درجے پر ہے، اتنا مبہم انداز کیوں اختیار کرے؟

ثالثاً، عام مسلمانوں کے لیے نو عورتوں سے دائمی نکاح کے جواز پر امت کا کوئی اجماع نہیں، بلکہ اس کے برعکس اجماع موجود ہے۔

لہٰذا آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں ان سے نکاح کرو، اور جو شخص اپنی بیویوں کے درمیان عدل قائم رکھ سکتا ہو وہ دو، تین یا چار عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے، ورنہ ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے۔

اس مسئلے میں رسولِ اکرم ﷺ کے عمل کو دلیل بنا کر عام لوگوں کے لیے چار سے زیادہ نکاح کے جواز کا استدلال درست نہیں؛ کیونکہ یہ حکم رسولِ اکرم ﷺ کے مخصوص احکام میں سے ہے۔

اسلام میں تعددِ ازواج کی اجازت کا مطلب اس کا وجوب نہیں، بلکہ یہ ایک مباح اور جائز امر ہے، اور اس کی اجازت عدل و انصاف کی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ لہٰذا جو شخص یقین یا اطمینان رکھتا ہو کہ وہ بیویوں کے درمیان عدل قائم رکھ سکے گا، یا کم از کم اس کے پاس عدمِ عدل کا معقول خوف نہ ہو، اس کے لیے تعددِ ازواج جائز ہے۔ (ر.ک: جوادی آملی، 1388ش، ج 17، ص 259، 260، 262 و 263)

اس آیت میں عدل سے مراد فقہی اور حقوقی عدل ہے؛ یعنی متعدد بیویوں والے مرد پر واجب ہے کہ وہ نفقہ، لباس، رہائش اور دیگر حقوق کے سلسلے میں اپنی بیویوں کے درمیان انصاف کرے۔ اگرچہ اس نوعیت کا عدل مشکل محسوس ہوتا ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ البتہ جو شخص اس کی قدرت نہ رکھتا ہو، اسے ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنا چاہیے۔

رہا قلبی محبت اور باطنی میلان کا مسئلہ، تو بیویوں کے درمیان اس اعتبار سے مکمل مساوات قائم کرنا عام انسانوں کے لیے نہایت دشوار ہے؛ کیونکہ دل کے رجحانات انسان کے مکمل اختیار میں نہیں ہوتے۔ بعض اوقات کسی بیوی کا مزاج شوہر کے ساتھ زیادہ سازگار ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی محبت دل میں زیادہ ہو جاتی ہے، جبکہ دوسری کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔

اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَإِن تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾

’’اور تم ہرگز عورتوں کے درمیان (محبتِ قلبی کے لحاظ سے) پورا عدل نہیں کر سکتے اگرچہ تم کتنی ہی کوشش کرو، پس ایسا نہ ہو کہ ایک طرف پوری طرح جھک جاؤ اور دوسری کو لٹکی ہوئی حالت میں چھوڑ دو، اور اگر تم اصلاح اور تقویٰ اختیار کرو تو بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔‘‘ (النساء: 129)

(مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: جوادی آملی، 1388ش، ج 21، ص 65، 66 و 69)

نتیجہ یہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور دنیا و اس کی زینتوں سے آپؐ کے زہد پر غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ آپؐ کے نکاحات عام لوگوں کے نکاحات جیسے نہیں تھے۔ مزید برآں، آپؐ کی پوری سیرت اور تعلیمات جاہلیت کے دور میں پامال ہونے والے حقوقِ نسواں کی بحالی، عورت کی عزت و حرمت کی بازیابی اور اس کی سماجی شخصیت کے احیاء کے لیے وقف تھیں۔ (ر.ک: همان، ج 17، ص 293 و 297)

لہٰذا چونکہ رسولِ اکرم ﷺ فقہی و حقوقی عدل کے ساتھ ساتھ قلبی عدل کو بھی اپنی ازواج کے درمیان قائم رکھنے کی قدرت رکھتے تھے، اس لیے آپؐ کو چار سے زیادہ دائمی بیویوں سے نکاح کی اجازت دی گئی، جبکہ دوسرے افراد چونکہ اس درجے کی کامل عدالت پر قادر نہیں تھے، اس لیے انہیں اس سے زیادہ کی اجازت نہیں دی گئی۔

۱۔۵) بغیر مہر کے نکاح

رسولِ اکرم ﷺ کے مخصوص احکام میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کوئی مؤمنہ عورت اپنے آپ کو رسولِ خدا ﷺ کے لیے ہبہ کر دے اور اپنے لیے کسی قسم کا مہر مقرر نہ کرے، تو رسولِ اکرم ﷺ اپنی مرضی کی صورت میں اس سے نکاح کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ

’’اور اگر کوئی مؤمنہ عورت اپنے آپ کو نبی کے لیے ہبہ کر دے، اور نبی بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں، تو وہ آپ کے لیے حلال ہے۔ یہ حکم خاص آپ کے لیے ہے، دوسرے مؤمنوں کے لیے نہیں۔‘‘ (الأحزاب: 50)

اس قسم کا نکاح صرف رسولِ اکرم ﷺ کے لیے جائز تھا، نہ کہ دیگر مؤمنین کے لیے، جیسا کہ آیت کے الفاظ:

﴿خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾

واضح طور پر اس اختصاص پر دلالت کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مہر کے بغیر نکاح کی اجازت رسولِ اکرم ﷺ کے مخصوص احکام میں سے تھی، اور آیتِ مبارکہ اس حقیقت کو صراحت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔

البتہ مفسرین کے درمیان اس بات میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا یہ عمومی اجازت رسولِ خدا ﷺ کی زندگی میں عملاً کسی مصداق پر منطبق ہوئی یا نہیں۔

بعض مفسرین، جیسے ابن عباس، کا عقیدہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے کسی بھی عورت سے اس طریقے پر نکاح نہیں فرمایا، اور یہ حکم صرف ایک عمومی اجازت کے طور پر نازل ہوا تھا جس سے عملاً استفادہ نہیں کیا گیا۔

اس کے برعکس بعض دیگر مفسرین نے چند ایسی خواتین کے نام ذکر کیے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو رسولِ خدا ﷺ کے لیے ہبہ کیا اور آپؐ کے عقد میں آئیں، جن میں:

  • میمونہ بنت حارث
  • زینب بنت خزیمہ
  • بنو اسد کی خاتون اُمِّ شریک بنت جابر
  • خولہ بنت حکیم

شامل ہیں۔ (ر.ک: مکارم شیرازی، 1374ش، ج 17، ص 402-406)

عرب قبائل کے لیے یہ ایک بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا کہ ان کے قبیلے کی کوئی خاتون رسولِ اکرم ﷺ کی زوجہ کہلائے۔ اس طرح کے ازدواجی روابط قبائل اور رسولِ خدا ﷺ کے درمیان سماجی تعلقات کو مضبوط بناتے تھے اور انہیں آپؐ کی حمایت و دفاع کے لیے زیادہ آمادہ کرتے تھے۔

لہٰذا قرآنِ کریم کی صریح تصریح کے مطابق، نکاحِ ہبہ صرف رسولِ اکرم ﷺ کے ساتھ مخصوص تھا، اور کسی دوسرے مسلمان کے لیے اس طریقے سے نکاح جائز نہیں ہے۔

واضح ہے کہ جو مؤمنہ عورت بغیر مہر کے اپنے آپ کو رسولِ اکرم ﷺ کے نکاح میں دیتی تھی، اس کا مقصد کوئی مادی منفعت حاصل کرنا نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ اس عظیم روحانی شرف کی طلبگار ہوتی تھی جو رسولِ خدا ﷺ کی زوجیت کے ذریعے اسے حاصل ہو سکتا تھا۔ (ر.ک: جوادی آملی، 1388ش، ج 17، ص 296)

۱۔۶) نمازِ شب کا وجوب

ان احکام اور خصوصیات میں سے ایک، جو صرف رسولِ اکرم ﷺ کے ساتھ مخصوص تھی اور جس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے، نمازِ شب کا وجوب ہے۔

رسولِ اسلام ﷺ پر وہ تمام احکام اور ذمہ داریاں بھی واجب تھیں جو عام مسلمانوں پر عائد ہوتی تھیں، لیکن اس کے علاوہ آپؐ پر بعض ایسے خصوصی فرائض بھی تھے جو صرف آپؐ سے مخصوص تھے۔ انہی میں سے ایک نمازِ شب اور تہجد کا وجوب تھا، جس کی طرف قرآنِ کریم کی متعدد آیات میں اشارہ کیا گیا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ۝ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ۝ نِصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ۝ أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾

’’اے چادر اوڑھنے والے! * رات کو قیام کرو مگر تھوڑا سا۔ * آدھی رات، یا اس سے کچھ کم کر لو۔ * یا اس پر کچھ بڑھا دو، اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر خوب پڑھو۔‘‘ (المزمل: 1-4)

نیز ارشادِ الٰہی ہے:

﴿وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا﴾

’’اور رات کے ایک حصے میں بیدار ہو کر اس کے ذریعے تہجد ادا کرو، یہ تمہارے لیے ایک اضافی فریضہ ہے۔ امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہیں مقامِ محمود پر فائز کرے گا۔‘‘ (الإسراء: 79)

اس خصوصی عبادت کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ایک عظیم اجر اور بلند مرتبہ عطا کرنے کا وعدہ فرمایا، اور وہ ہے مقامِ محمود؛ یعنی ایک ایسا بلند اور پسندیدہ مقام۔

روایات کے مطابق مقامِ محمود سے مراد شفاعت ہے، جس کے ذریعے رسولِ اکرم ﷺ قیامت کے دن اپنی امت کے گناہ گاروں، خصوصاً اہلِ کبائر، کی شفاعت فرمائیں گے۔ (ر.ک: ابن بابویہ، 1376ش، ص 294)

بلاشبہ مقامِ محمود نہایت عظیم اور ممتاز مقام ہے؛ کیونکہ لفظ «محمود» مادۂ «حمد» سے مشتق ہے، جس کے معنی ’’تعریف اور ستائش‘‘ کے ہیں۔ اور چونکہ یہ لفظ مطلق طور پر استعمال ہوا ہے، اس لیے ممکن ہے اس سے مراد ایسا مقام ہو جس پر اولین و آخرین سب کی تعریف و تحسین آپؐ کی طرف متوجہ ہو۔

اسلامی روایات، خواہ اہلِ بیتؑ کی ہوں یا اہلِ سنت کی، سب نے مقامِ محمود کی تفسیر «شفاعتِ کبریٰ» سے کی ہے؛ کیونکہ رسولِ اسلام ﷺ عالمِ آخرت کے سب سے بڑے شفیع ہیں، اور جو لوگ اس عظیم شفاعت کے مستحق ہوں گے، وہ آپؐ کی اس وسیع اور عظیم شفاعت سے بہرہ مند ہوں گے۔ (ر.ک: طباطبائی، 1403ھ، ج 13، ص 175)

۱۔۷) خاتمیت اور رسولِ اکرم ﷺ کی عالمی شخصیت

ان اوصاف اور خصوصیات میں سے جو صرف رسولِ اکرم ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں، اور جن پر تمام مفسرین اور اسلامی مفکرین کا اتفاق ہے، خاتمیت کا وصف ہے۔

قرآنِ کریم ارشاد فرماتا ہے:

﴿مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا﴾

’’محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔‘‘ (الأحزاب: 40)

یہ آیت دورِ جاہلیت کے ایک غلط رسم و رواج کو باطل قرار دیتی ہے، جس کے مطابق منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح جائز نہیں سمجھا جاتا تھا۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے حقیقی والد نہیں تھے؛ نہ زید کے اور نہ کسی دوسرے کے، بلکہ آپؐ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔

خاتمیت سے مراد صرف زمانی اعتبار سے آخری نبی ہونا ہی نہیں، بلکہ مرتبہ اور کمال کے اعتبار سے بھی انتہائے نبوت پر فائز ہونا ہے۔

لفظ «خاتم» اس مہر کو کہا جاتا ہے جو کسی تحریر کے اختتام پر لگائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انبیائے الٰہی کے ذریعے انسانیت تک اپنے پیغامات پہنچائے، اور جب سلسلۂ نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ گیا تو رسولِ اکرم ﷺ کو مبعوث فرما کر نبوت کے صحیفے پر مہر لگا دی۔ اس طرح آپؐ کی بعثت کے ساتھ نبوت اور رسالت کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا اور اب کسی نئی نبوت یا رسالت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ تمام انبیاء کی زینت اور ان کے خاتم ہیں، اور آپؐ کے ذریعے سلسلۂ نبوت مکمل اور ختم ہو گیا۔ (ر.ک: جوادی آملی، 1385ش، ج 8، ص 23)

مرحوم طبرسی کے نزدیک «خاتم النبیین» کا مفہوم یہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ آخری پیغمبر ہیں، آپؐ کی آمد کے ساتھ دفترِ رسالت پر مہر ثبت ہو گئی اور سلسلۂ نبوت اختتام پذیر ہو گیا۔ اسی لیے آپؐ کا دین اور شریعت قیامت تک پوری انسانیت کے لیے راہِ ہدایت اور ضابطۂ حیات ہیں۔ یہ عظیم خصوصیت اور فضیلت تمام انبیائے الٰہی میں صرف رسولِ اکرم ﷺ کو حاصل ہے۔ (ر.ک: طبرسی، 1360ش، ج 1، ص 512)

اگرچہ مذکورہ آیت تنہا بھی خاتمیتِ رسول ﷺ کے اثبات کے لیے کافی ہے، لیکن خاتمیت کا ثبوت صرف اسی آیت تک محدود نہیں، بلکہ قرآنِ کریم کی متعدد دیگر آیات اور بے شمار روایات بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہیں۔

چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾

’’اور ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ (سبأ: 28)

اسی طرح فرمایا:

﴿وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ

’’اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعے تمہیں اور ہر اس شخص کو ڈراؤں جس تک یہ پیغام پہنچے۔‘‘ (الأنعام: 19)

جملہ «وَمَن بَلَغَ» کا مفہوم نہایت وسیع ہے، جو اس بات کو واضح کرتا ہے کہ قرآنِ کریم اور رسولِ اسلام ﷺ کی دعوت کسی خاص قوم، نسل یا زمانے تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس انسان کے لیے ہے جس تک یہ پیغام پہنچے۔

لہٰذا یہ آیات ایک طرف رسولِ اکرم ﷺ اور قرآنِ مجید کی عالمگیر رسالت کو ثابت کرتی ہیں، اور دوسری طرف آپؐ کی خاتمیت پر بھی دلالت کرتی ہیں؛ کیونکہ جب ایک پیغمبر کی رسالت تمام انسانوں اور تمام زمانوں کو شامل ہو جائے تو اس کے بعد کسی نئے نبی یا نئی شریعت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

۲۔ رسولِ اکرم ﷺ کے اختلافی طور پر مخصوص اوصاف و احکام

۲۔۱) علوِّ مرتبہ (صدرِ اسلام سے آج تک رسولِ اکرم ﷺ کے نام کی رفعت)

یہ خصوصیت رسولِ اکرم ﷺ کے بلند اخلاق اور نمایاں صفات کا نتیجہ اور ثمرہ ہے۔ کسی شخصیت کے بلند مرتبے اور عظیم مقام کو پہچاننے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس کی تعریف و تمجید ان ہستیوں کی جانب سے کی جائے جو مرتبے کے اعتبار سے اس سے کہیں بلند مقام پر فائز ہوں۔

جب رسولِ خدا ﷺ پر پروردگار کی خصوصی توجہ ہوتی ہے اور آپؐ فرشتوں کی رحمت اور درود سے بہرہ مند ہوتے ہیں، تو آپؐ کی قدر و منزلت سب پر مزید آشکار ہو جاتی ہے۔ اسی بنا پر ہمیں بھی حکم دیا گیا ہے کہ آپؐ پر درود بھیجیں، آپؐ کو سلام کریں اور آپؐ کے فرمان کے سامنے مکمل طور پر تسلیم و رضا اختیار کریں:

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾

’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور سلام بھیجو، اور مکمل طور پر تسلیم و اطاعت اختیار کرو۔‘‘ (الأحزاب: 56)

یہ آیت رسولِ اکرم ﷺ کے بلند مقام و مرتبے کی خصوصیت کو بیان کرتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی صریح تائید کے ذریعے آپؐ کی مقبولیت اور عظمت کو لوگوں کے درمیان نمایاں کرتی ہے۔

ایک دوسری آیت میں ارشاد فرمایا:

﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾

’’اور ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا۔‘‘ (الانشراح: 4)

اسی موضوع کی طرف قرآنِ کریم کی دیگر آیات میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ (ر.ک: الحجرات: 1؛ النور: 63)

اللہ سبحانہٗ نے بہت سے ثبوتی کمالات، جیسے ایمان، اطاعت اور اجابت، نیز صفاتِ سلبیہ اور دیگر امور کے بیان میں رسولِ خدا ﷺ کے مبارک نام کو اپنے اسمِ گرامی کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ (ر.ک: جوادی آملی، 1385ش، ج 9، ص 362)

۲۔۲) عبدِ مطلق

رسولِ اکرم ﷺ کے ساتھ مخصوص قرار دی جانے والی دیگر خصوصیات میں سے ایک «عبدِ مطلق» ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ رسولِ اکرم ﷺ کے بارے میں فرماتا ہے:

﴿وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنتَهَىٰ﴾

’’اور یہ کہ تمام امور کی انتہا آپ کے پروردگار ہی کی طرف ہے۔‘‘ (النجم: 42)

اللہ تعالیٰ ربّ العالمین ہے، لیکن بعض انسان حق تعالیٰ کے جزوی اسماء کی تدبیر کے تحت ہوتے ہیں؛ مثلاً بعض حقیقت میں عبدالرزاق، عبدالباسط، عبدالقابض، عبدالکریم اور عبدالجلیل ہوتے ہیں۔ لیکن رسولِ اسلام ﷺ «عبد» ہیں اور آپؐ کا پروردگار، آپؐ کی ذات کا مدبّر و مربی ہے، جو اپنی ذات میں انتہائی مرتبے کا حامل ہے۔ قوسِ صعود میں رسولِ اکرم ﷺ کی مربوبیت کے مقام سے بلند تر کوئی مقام نہیں ہے۔

آپؐ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سب سے اعلیٰ اسم سے منسوب ہیں، یعنی «ہُوَ»، جو ہویتِ مطلقہ ہے۔ چونکہ کامل ترین عبودیت آپؐ ہی کے لیے ہے، اس لیے جامع ترین کلمہ آپؐ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور آپؐ قوسِ نزول میں اسی مقام سے تنزّل فرما کر آئے ہیں، اور ہویتِ مطلقہ ہی رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت کا مبدأ ہے:

﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾

’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے، خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘ (التوبہ: 33)

جب اللہ تعالیٰ دوسرے انبیاء کے لیے «عبد» کی تعبیر استعمال کرتا ہے تو ان کے نام بھی ساتھ ذکر کرتا ہے۔ مثلاً فرماتا ہے:

﴿وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ﴾

’’اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو، جو قوتِ عمل اور بصیرت کے مالک تھے۔‘‘ (ص: 45)

نیز فرماتا ہے:

﴿وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ﴾

’’اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو، جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور تکلیف پہنچائی ہے۔‘‘ (ص: 41)

اور ارشاد ہوتا ہے:

﴿اصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾

’’اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر صبر کرو، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو صاحبِ قوت تھے، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والے تھے۔‘‘ (ص: 17)

اسی طرح فرمایا:

﴿كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ﴾

’’ان سے پہلے قومِ نوح نے بھی تکذیب کی، پس انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے، اور اسے (رسالت سے) روکنے کے لیے طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں۔‘‘ (القمر: 9)

لیکن خاتم الانبیاء ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ آپؐ کا نام ذکر کیے بغیر «عبدِ مطلق» کی تعبیر استعمال فرماتا ہے:

﴿فَتَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا﴾

’’بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ تمام جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔‘‘ (الفرقان: 1)

اس آیت میں نہ لفظ «عبد» سے پہلے رسولِ اکرم ﷺ کا نام ذکر کیا گیا ہے اور نہ اس کے بعد، تاکہ یہ کہا جائے کہ آپؐ کا نام کسی قرینے کی بنا پر محذوف ہے۔ اسی طرح یہاں «عبدنا» بھی نہیں فرمایا گیا جو کثرت کی طرف اشارہ کرتا، بلکہ «عبده» فرمایا گیا ہے جو مقامِ وحدت کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ تعبیر «عبداللہ» سے بھی بالاتر ہے؛ کیونکہ یہ عبودیت ہویتِ مطلقہ کی حکایت کرتی ہے، جو مقامِ الٰہیت سے بھی بالاتر ہے۔ (ر.ک: جوادی آملی، 1385ش، ج 8، ص 26)

علاوہ ازیں، سورۂ اسراء کے آغاز میں فرمایا گیا ہے:

﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾

’’پاک و منزہ ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو ایک رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی، جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تاکہ ہم اسے اپنی بعض نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہی خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ (الإسراء: 1)

اسی طرح سورۂ کہف کی پہلی آیت میں فرمایا:

﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنزَلَ عَلَىٰ عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا﴾

’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کسی قسم کی کجی نہیں رکھی۔‘‘ (الکہف: 1)

یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ لفظ «عبد» اپنے کامل ترین مصداق کی طرف منصرف ہوتا ہے، اور وہ رسولِ خدا ﷺ ہیں۔ یہ خود دوسرے انبیائے الٰہی کے مقابلے میں آپؐ کی ایک ناقابلِ انکار فضیلت ہے۔

اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ تمام زمانوں کے عبدِ مطلق سے مراد رسولِ اکرم ﷺ کو قرار دیتا ہے۔ اسی بنا پر حضرت آدمؑ اور ان کے بعد آنے والے تمام انبیاء اس عبدِ مطلق کے زیرِ لوا ہیں۔ بلکہ تمام انبیاء اور معصومینؑ اللہ تعالیٰ کے عبدِ مطلق، یعنی رسولِ اکرم ﷺ کے زیرِ لوا ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، رسولِ خدا ﷺ سیدُ الاوّلین والآخرین ہیں، جیسا کہ آپؐ فرماتے ہیں:

«أَنَا سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ، أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَإِمَامُ الْمُتَّقِينَ وَرَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ»

’’میں اولادِ آدم کا سردار ہوں، اور یہ میرے لیے باعثِ فخر نہیں؛ میں خاتم النبیین، متقین کا امام اور رب العالمین کا رسول ہوں۔‘‘ (مجلسی، 1372ش، ج 9، ص 294)

استاد جوادی آملی نے بھی عبدِ مطلق کی اس خصوصیت کو رسولِ اکرم ﷺ کے ساتھ مخصوص قرار دیا ہے۔ (ر.ک: جوادی آملی، 1385ش، ج 8، ص 26)

۲۔۳) اُسوۂ حسنہ؛ ماضی، حال اور مستقبل میں

صفت «اُسوہ» اگرچہ رسولِ اکرم ﷺ کی خصوصی صفات میں شمار ہوتی ہے، لیکن سورۂ ممتحنہ کی آیات ۴ اور ۶ میں حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں بھی استعمال ہوئی ہے۔ اس بات میں کہ آیا یہ صفت رسولِ اکرم ﷺ کی خصوصی صفات میں سے ہے یا نہیں، مفسرین کے درمیان اختلافِ نظر پایا جاتا ہے۔ بعض تفاسیر، مثلاً تفسیرِ نور، میں سورۂ احزاب کی آیت ۲۱ کے ذیل میں ذکر کیا گیا ہے کہ یہ لفظ حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں بھی استعمال ہوا ہے۔ (ر.ک: قرائتی، 1383ش، ج 7، ص 344)

لیکن ان دونوں پیغمبروں کے اُسوہ ہونے میں فرق ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کا اُسوہ ہونا شرک اور مشرکین سے براءت کے سلسلے میں ہے، جبکہ رسولِ اسلام ﷺ کا اُسوہ ہونا ان آیات میں دشمن کے مقابلے میں استقامت اور ثابت قدمی کے حوالے سے بیان ہوا ہے۔ دوسری طرف، رسولِ اکرم ﷺ کے اقوال و افعال میں سے کسی ایک مورد کو بھی دائرۂ اقتدا سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا ہے۔ (ر.ک: سیوطی، 1404ھ، ج 6، ص 45)

رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی انسانی فضائل، پسندیدہ صفات اور مسلسل سیر و سلوک سے سرشار ہے، جس سے آپؐ کی عظمت اور بلند اصالت نمایاں ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اس صفت سے متصف فرمایا:

﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾

’’اور بے شک آپؐ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔‘‘ (القلم: 4)

اسی بنا پر خداوندِ متعال فرماتا ہے:

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا﴾

’’یقیناً تمہارے لیے رسولِ خدا ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ اور روزِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہے۔‘‘ (الأحزاب: 21)

رسولِ اکرم ﷺ کو ’’الگو‘‘ اور ’’اُسوۂ حسنہ‘‘ کے طور پر بغیر کسی قید اور استثنا کے پیش کیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ آپؐ کے تمام افعال، تمام حالات میں معتبر اور قابلِ اقتدا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدرِ اسلام سے رسولِ اکرم ﷺ کے طریقۂ عمل کو ’’سنّت‘‘ کے عنوان سے حجت اور قابلِ استناد قرار دیا جاتا رہا ہے۔

روایات میں بھی رسولِ اکرم ﷺ کے عبادی اور غیر عبادی اعمال کو ’’اُسوہ‘‘ کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ (ر.ک: صادقی، 1365ش، ج 2، ص 75-76)

شیخ طوسی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

«اُسوه حالتی است برای صاحب آن که دیگران بدان حالت اقتدا می‌کنند و الگو بودن در انسان است. پس هر کس از الگوی خوب پیروی کند، کارهایش خوب می‌شود

’’اُسوہ صاحبِ اُسوہ کی ایسی حالت کو کہتے ہیں جس میں دوسرے لوگ اس کی اقتدا کرتے ہیں، اور انسان میں اُسوہ ہونے کا مطلب یہی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے نمونہ ہو۔ لہٰذا جو شخص اچھے نمونے کی پیروی کرے گا، اس کے اعمال بھی اچھے ہو جائیں گے۔‘‘ (طوسی، 1409ھ، ج 8، ص 328)

آیت میں «لَكُمْ» کی تعبیر رسولِ اکرم ﷺ کے اُسوہ ہونے کو تمام مخاطبین کے لیے یکساں طور پر ثابت کرتی ہے، جبکہ «لِمَن كَانَ» کی تعبیر اس اُسوہ سے فائدہ اٹھانے کی اہلیت رکھنے والوں کی طرف اشارہ کرتی ہے؛ یعنی اگرچہ رسولِ اکرم ﷺ سب کے لیے اُسوہ ہیں، لیکن ہر شخص اس عام اُسوہ سے یکساں طور پر فائدہ نہیں اٹھاتا، بلکہ مخصوص صفات اور شرائط رکھنے والے افراد ہی اس سے حقیقی طور پر بہرہ مند ہوتے ہیں۔

اسی طرح قید «لِمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ» اس بات کو واضح کرتی ہے کہ غیر مؤمنین رسولِ اعظم ﷺ کے اُسوہ ہونے سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اور «وَلَقَدْ كَانَ لَكُمْ» کی تعبیر رسولِ اکرم ﷺ کے مؤمنین کے لیے مسلسل اور دائمی نمونۂ عمل ہونے پر دلالت کرتی ہے؛ یعنی رسولِ اعظم ﷺ کی پیروی ماضی سے چلی آنے والی ایک ثابت اور دائمی ذمہ داری ہے۔ (ر.ک: طباطبائی، 1374ش، ج 16، ص 432)

۲۔۴) خطاب میں تعظیم و تکریم

رسولِ اسلام ﷺ کے ساتھ اس صفت کے اختصاص کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلافِ نظر پایا جاتا ہے۔ بعض کا عقیدہ ہے کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے طرزِ گفتگو اور ادبِ خطاب کے اعتبار سے خاتم الانبیاء ﷺ کے لیے ایک خاص احترام ملحوظ رکھا ہے، جو سابقہ انبیاء کے لیے اس انداز میں نہیں رکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ گزشتہ انبیاء کو ان کے مخصوص ناموں سے خطاب فرماتا ہے، لیکن رسولِ اسلام ﷺ کے مبارک نام کو کبھی «یا محمد» کہہ کر خطاب نہیں فرمایا، بلکہ ہمیشہ تعظیم و تکریم پر مشتمل تعبیرات، جیسے «یَا أَیُّهَا النَّبِي» اور «یَا أَیُّهَا الرَّسُول» کے ذریعے آپؐ کو مخاطب فرمایا ہے۔

اگر قرآنِ کریم میں کہیں ﴿یَا أَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ اور ﴿یَا أَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ کے الفاظ سے خطاب ہوا ہے تو یہ ایک لطیف تاریخی نکتے کی طرف اشارہ ہے۔

مثلاً حضرت آدمؑ، ابوالبشر، کے بارے میں فرمایا:

﴿وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ﴾

’’اور ہم نے کہا: اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ (البقرہ: 35)

حضرت نوحؑ کے بارے میں فرمایا:

﴿قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ﴾

’’فرمایا: اے نوح! بے شک وہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے۔‘‘ (ہود: 46)

حضرت موسیٰؑ کے بارے میں فرمایا:

﴿يَا مُوسَىٰ أَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ إِنَّكَ مِنَ الْآمِنِينَ﴾

’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور خوف نہ کرو، بے شک تم امن پانے والوں میں سے ہو۔‘‘ (القصص: 31)

حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں فرمایا:

﴿وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ﴾

’’اور جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ ابنِ مریم!‘‘ (المائدہ: 116)

اور حضرت داؤدؑ کے بارے میں فرمایا:

﴿يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ﴾

’’اے داؤد! بے شک ہم نے تمہیں زمین میں اپنا خلیفہ قرار دیا ہے۔‘‘ (ص: 26)

لیکن رسولِ اکرم ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے اس تعظیم آمیز طرزِ خطاب کے علاوہ اپنے بندوں کو بھی یہ ادب سکھایا ہے کہ:

﴿لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا﴾

’’اے ایمان والو! رسول کو پکارنے کو آپس میں ایک دوسرے کو پکارنے کی طرح قرار نہ دو۔‘‘ (النور: 63)

یعنی جب تم رسولِ اکرم ﷺ کو پکارو تو آپؐ کو عام لوگوں کی طرح نہ پکارو، بلکہ آپؐ کو پکارنے کا طریقہ بھی تعظیم و تکریم پر مبنی ہو اور خود پکارنے کا انداز بھی ادب و احترام سے آمیختہ ہو۔ (ر.ک: جوادی آملی، 1385ش، ج 8، ص 57-58)

اس کے مقابلے میں بعض دوسرے مفسرین کا کہنا ہے کہ «دُعَاءَ الرَّسُولِ» سے مراد رسولِ اکرم ﷺ کو خطاب کرنا یا پکارنا نہیں ہے کہ لوگ آپؐ کو دوسرے لوگوں کی طرح نہ پکاریں اور آپؐ کا نام احترام کے ساتھ ادا کریں؛ مثلاً یہ نہ کہیں کہ «یا محمد» یا «یا ابن عبداللہ»، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ لوگوں کو کسی کام کی طرف دعوت دیں؛ مثلاً انہیں ایمان اور عملِ صالح کی دعوت دینا، اور یہ تمام امور آپؐ کی دعا اور دعوت کے مصادیق ہیں۔

اس مفہوم کی تائید آیت کے آخر میں ہونے والے اس بیان سے بھی ہوتی ہے، جہاں فرمایا:

﴿قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

’’اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لے کر چپکے سے نکل جاتے ہیں۔ پس جو لوگ اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں کوئی فتنہ انہیں اپنی گرفت میں نہ لے لے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔‘‘ (النور: 63)

اسی طرح آیت کے بعد رسولِ اکرم ﷺ کے امر کی مخالفت پر جو وعید بیان ہوئی ہے، وہ بھی اسی مفہوم کی تائید کرتی ہے۔ (ر.ک: طباطبائی، 1374ش، ج 15، ص 231)

بعض دوسرے مفسرین آیت کے مضمون کو مسلمانوں کی زندگی کے تمام شعبوں اور تمام امور میں ایک عمومی حکم قرار دیتے ہیں اور اسے رسولِ خدا ﷺ کی سنت کے حجت ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں۔ اس اصول کے مطابق تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کے اوامر و نواہی کی اطاعت کریں۔ (ر.ک: مکارم شیرازی، 1374ش، ج 23، ص 508)

مرحوم طبرسی کے نزدیک اس آیت میں «دُعاء» سے مراد پکارنا نہیں، بلکہ رسولِ اکرم ﷺ کے اوامر و نواہی ہیں۔ (ر.ک: طبرسی، 1360ش، ج 17، ص 178)

قرآنِ کریم میں چار مقامات پر رسولِ اکرم ﷺ کا نام صراحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ (ر.ک: آل عمران: 144؛ الأحزاب: 40؛ محمد: 2؛ الفتح: 29)

ان آیات میں آپؐ کا نام صراحت کے ساتھ ذکر کیے جانے کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ مقامات پر رسولِ اکرم ﷺ کی رسالت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ (ر.ک: مجلسی، 1372ش، ج 16، ص 400)

۲۔۵) بعثت کا منّت ہونا

اگرچہ تمام انبیائے الٰہی کی بعثت ایک نعمت اور احسان ہے، لیکن یہ خصوصیت صرف خاتم الانبیاء ﷺ کے بارے میں بیان ہوئی ہے۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے:

﴿لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ﴾

’’یقیناً اللہ نے مؤمنین پر بڑا احسان فرمایا، جب ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا۔‘‘ (آل عمران: 164)

«منّت» سے مراد ایسی بھاری اور عظیم نعمت ہے جسے برداشت کرنا آسان نہ ہو۔ صرف مؤمن انسان ہی نعمتِ نبوت کو قبول کرنے اور اس کی اطاعت کرنے کی اچھی طرح صلاحیت رکھتا ہے۔

اگرچہ رسولِ خدا ﷺ کی نبوت عالمی اور تمام انسانوں کے لیے ہے، لیکن یہاں منّت کو مؤمنین کے ساتھ مخصوص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے لوگ اس نعمت کو قبول نہیں کرتے:

﴿وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾

’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ (سبأ: 28)

لہٰذا اللہ تعالیٰ نے مؤمنین پر احسان فرمایا اور انہی کے درمیان سے ایک رسول مبعوث کیا۔ (ر.ک: جوادی آملی، 1385ش، ج 8، ص 59-60)

نتیجہ

قرآنِ کریم کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے الٰہی اگرچہ منصبِ نبوت اور عالمِ وحی سے اتصال کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ساتھ مشترک ہیں، لیکن فضیلت، برتری اور دیگر ملاکوں کے اعتبار سے سب ایک ہی درجے پر فائز نہیں ہیں۔ ان میں سے بعض فرستادگان اور رہبرانِ الٰہی ایسی خصوصی صفات اور احکام کے حامل ہیں جن میں دوسرے انبیاء کا کوئی حصہ نہیں۔

رسولِ گرامیِ اسلام ﷺ بھی دیگر انبیائے الٰہی کے درمیان ایسی خصوصیات، اوصاف اور احکام کے حامل ہیں جو صرف آپؐ کے ساتھ مخصوص ہیں۔ ان میں سے بعض اوصاف و خصوصیات یہ ہیں: خاتم الانبیاء ہونا، عبدِ مطلق اور تمام زمانوں میں کامل ترین فرد ہونا، مرتبے اور مقام کے اعتبار سے اولین مسلمان ہونا، اللہ تعالیٰ کی جانب سے خصوصی عطایا سے نوازا جانا، متعدد ازدواج کی اجازت ہونا، اور آپؐ کا نام تورات و انجیل میں مکتوب ہونا۔

آسمانی کتابیں، بالخصوص قرآنِ کریم، اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ دوسرے انبیائے الٰہی ان خصوصیات کے حامل نہیں ہوئے۔ یہاں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اشرفِ مخلوقات اور انسانِ کامل کا حقیقی مصداق خود رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارک ہے، اور آپؐ تمام انسانوں کے لیے ہر دور میں کمال حاصل کرنے کا برتر نمونہ بن سکتے ہیں۔

یہی درحقیقت اس منّت کا مفہوم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مؤمنین پر کی ہے کہ ایسی خیر و برکت سے سرشار ہستی کو مبعوث فرما کر ان کی ہدایت کا انتظام کیا۔ دوسری جانب، آپؐ کا وجودِ مبارک وہی رحمت ہے جسے حضرتِ حق نے تمام جہانوں کے لیے قرار دیا ہے، تاکہ ہر انسان آپؐ کے فیض سے بہرہ مند ہو سکے۔

پی نوشت

۱۔ ان آثاری میں سے جنہوں نے اس موضوع پر پراگندہ اور عمومی انداز میں بحث کی ہے، درج ذیل کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے: استاد جوادی آملی کی تفسیر موضوعی قرآن، جس میں پیامبر اکرمؐ کی بعض صفات کو ’’انبیاء کے مشترک اصول‘‘ کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح آیت اللہ مکارم شیرازی کی کتاب پیام قرآن اور آیت اللہ جعفر سبحانی کی منشور جاوید، جنہوں نے اس بحث کے لیے بہت مختصر حصے مختص کیے ہیں۔

۲۔ ان میں سے ایک ’’حدیثِ منزلت‘‘ ہے، جسے فریقین نے رسول اکرمؐ سے متواتر نقل کیا ہے۔ حدیثِ منزلت میں رسول اکرمؐ حضرت علیؑ سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

«أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى أَلَا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي»

’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ میرے ساتھ تمہاری وہی منزلت ہو جو موسیٰ کے ساتھ ہارون کی تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے؟!‘‘ (مجلسی، ۱۳۷۲، ج ۳۷: ۲۵۳)

ایک دوسری حدیث میں کتاب کافی میں امام صادقؑ سے اس طرح منقول ہے:

«إِنَّ اللهَ خَتَمَ بِنَبِيِّكُمُ النَّبِيِّينَ فَلَا نَبِيَّ بَعْدَهُ أَبَدًا وَخَتَمَ بِكِتَابِكُمُ الْكُتُبَ فَلَا كِتَابَ بَعْدَهُ أَبَدًا»

’’بے شک اللہ نے تمہارے نبی کے ذریعے انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا ہے، لہٰذا ان کے بعد کبھی کوئی نبی نہیں آئے گا، اور تمہاری کتاب کے ذریعے آسمانی کتابوں کا سلسلہ ختم کر دیا ہے، لہٰذا اس کے بعد کبھی کوئی کتاب نازل نہیں ہوگی۔‘‘ (کلینی، ۱۴۰۷ق، ج ۱: ۲۶۹)

ایک دوسری معروف حدیث میں رسول اکرمؐ سے اس طرح منقول ہے:

«حَلَالُ مُحَمَّدٍ حَلَالٌ أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَحَرَامُهُ حَرَامٌ أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يَكُونُ غَيْرُهُ وَلَا يَجِيءُ غَيْرُهُ»

’’محمدؐ کا حلال قیامت کے دن تک ہمیشہ حلال ہے اور ان کا حرام قیامت کے دن تک ہمیشہ حرام ہے؛ نہ ان کے علاوہ کوئی اور شریعت ہوگی اور نہ کوئی دوسری شریعت آئے گی۔‘‘ (حوالۂ سابق: ۵۸)

نہج البلاغہ کے بہت سے خطبات میں بھی مسئلۂ خاتمیتِ پیامبرؐ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک مقام پر آپؐ کی توصیف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:

«أَمِينُ وَحْيِهِ وَخَاتَمُ رُسُلِهِ وَبَشِيرُ رَحْمَتِهِ وَنَذِيرُ نِقْمَتِهِ»

’’(پیامبرِ اسلامؐ) اللہ کی وحی کے امین، اس کے رسولوں کے خاتم، اس کی رحمت کی بشارت دینے والے اور اس کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں۔‘‘ (نہج البلاغہ، خطبہ ۱۷۳)

ایک دوسرے خطبے میں بھی اس موضوع کے بارے میں فرمایا گیا ہے:

«أَرْسَلَهُ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ وَتَنَازُعٍ مِنَ الْأَلْسُنِ فَقَفَّى بِهِ الرُّسُلَ وَخَتَمَ بِهِ الْوَحْيَ»

’’اللہ نے پیامبرؐ کو ایک ایسے زمانے میں مبعوث فرمایا جب رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک طویل مدت سے رکا ہوا تھا اور مختلف زبانوں کے پیروکاروں کے درمیان اختلاف و نزاع پایا جاتا تھا۔ پس اللہ نے انہیں سابقہ رسولوں کے بعد بھیجا اور ان کے ذریعے وحی کا سلسلہ ختم فرما دیا۔‘‘ (حوالۂ سابق، خطبہ ۱۳۳)

اگرچہ بہت سی آیات اور روایات پیامبر اسلامؐ کی شریعت کی عالمگیریت اور جاودانگی کو بیان کرتی ہیں، لیکن سورۂ احزاب کی آیت ۴۰ پیامبر اسلامؐ کی خاتمیت کی سب سے روشن دلیل ہے؛ کیونکہ یہ واحد آیت ہے جس میں پیامبرؐ کے نام اور آپؐ کی رسالت، دونوں کو تین عنوانات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے: ’’محمد‘‘، ’’رسول اللہ‘‘ اور ’’خاتم النبیین‘‘۔

۳۔ اسی طرح درج ذیل آیات بھی پیامبرؐ کی خاتمیت کے موضوع کی طرف اشارہ کرتی ہیں:

﴿تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا﴾

’’بڑی بابرکت اور زوال ناپذیر ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا، تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔‘‘ (الفرقان: ۱)

اور:

﴿قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا

’’کہہ دیجیے: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔۔۔‘‘ (الأعراف: ۱۵۸)

۴۔

«آدَمُ وَمِنْ دُونِهِ تَحْتَ لِوَائِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

’’آدمؑ اور ان کے علاوہ تمام لوگ قیامت کے دن میرے پرچم اور لوائے کے نیچے ہوں گے۔‘‘ (مجلسی، ۱۳۷۲، ج ۳۹: ۲۱۳)

منابع و مآخذ

قرآن کریم. ترجمه آیه الله ناصر مکارم شیرازی.

ابن بابویه (صدوق)، محمّد بن علی. (1376). الأمالی. ترجمه محمّدباقر کمره ای. تهران: کتابچی.

ابن حنبل، احمد. (1375). مسند بن حنبل. تحقیق محمّد شاکر. قاهره: چاپ حلبی.

جوادی آملی، عبدالله. (1388). تفسیر تسنیم. تحقیق و تنظیم حسین اشرفی و دیگران. قم: انتشارات اسراء.

جوادی آملی، عبدالله.(1385). تفسیر موضوعی قرآن کریم. قم: مرکز نشر اسراء.

حجّتی، محمّدباقر. (1369). پژوهشی در تاریخ قرآن کریم. تهران: مؤسّسه انتشارات امیرکبیر.

رازی، ابوالفتوح. (1335). روض الجنان و روح البیان. تهران: بی نا.

رامیار، محمود. (1386). تاریخ قرآن. تهران: نشر فرهنگ اسلامی.

سیوطی، جلال الدّین عبدالرّحمن. (1360). الإتقان فی علوم القرآن. قاهره: بی نا.

سیوطی، جلال الدّین عبدالرّحمن.(1404ق.). الدرّ المنثور فی تفسیر المأثور. قم: کتابخانه آیه الله مرعشی نجفی.

شریف الرّضی، محمّد بن حسین. (1389). نهج البلاغه. ترجمه محمّد دشتی. قم: انتشارات دیوان.

صادقی، محمّد. (1365). تفسیر فرقان. تهران: انتشارات فرهنگ اسلامی.

طباطبائی، محمّدحسین. (1374). المیزان فی تفسیر القرآن. ترجمه سیّد محمّدباقر موسوی همدانی. قم: دفتر انتشارات اسلامی وابسته به جامعه مدرّسین حوزه علمیّه قم.

طباطبائی، محمّدحسین. (1403ق.). المیزان فی تفسیر القرآن. بیروت: مؤسّسه الأعلمی للمطبوعات.

طبرسی، فضل بن حسن. (1360). مجمع البیان فی تفسیر القرآن. ترجمه مترجمان. تهران: انتشارات فراهانی.

طوسی، محمّد بن حسن. (1409ق). التّبیان. تحقیق أحمد حبیب قصیر المأمّلی. بی جا: مکتب الأعلام الإسلامی.

قرائتی، محسن. (1383). تفسیر نور. تهران: مرکز فرهنگی درسهایی از قرآن.

کاشانی، محمّدحسن فیض. (1387). تفسیر صافی. ترجمه جمعی از فضلاء با نظارت استاد عقیقی بخشایشی. قم: دفتر نشر نوید اسلامی.

کلینی، محمّد بن یعقوب. (1407ق.). الکافی. تصحیح علی اکبر غفّاری و محمّد آخوندی. تهران: دار الکُتُب الإسلامیّه.

مجلسی، محمّدباقر. (1372). بحارالأنوار. تحقیق سیّد جواد علوی و مرتضی آخوندی. تهران: دار الکُتُب الإسلامیّه.

مکارم شیرازی، ناصرو دیگران. (1374). تفسیر نمونه. تهران: دار الکُتُب الإسلامیّه.

هیثمی، نورالدّین. (1352). مجمع الزّوائد. بی جا: بی نا.

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے